اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ کے آزادی مارچ کے شرکاء نے جسکول کے مقام پردھرنا دے رکھا ہے۔
مظاہرین نے آج دوبارہ لائن آف کنٹرول جانے کا اعلان کیا ہے جبکہ کمشنر مظفر آباد کا کہنا ہے کہ سکیورٹی رسک کی بنیاد پر انہیں آگے جانے نہیں دیا جا سکتا۔
تفصیلات کے مطابق جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ کے آزادی مارچ کو لائن آف کنٹرول عبور کرنے سے روک دیا گیا ہے۔
مقامی انتظامیہ نے چکوٹھی جانے والی مرکزی شاہرائے سرینگر کو جسکول کے مقام سے چھ کلومیٹر قبل پر کٹینیر اور خار دار تاریں لگا کر بند کیا ہے اور پولیس کی بھاری نفری تعینات کی ہے۔
جے کے ایل ایف کے کارکنان نے اب اس مقام پر دھرنا دے رکھا ہے۔ مقامی انتظامیہ سے اب تک ہونے والے مذاکرات ناکام ہو چکے ہیں اور جسکول کے مقام پر دھرنا جاری ہے جس کے ساتھ ساتھ نعرےبازی بھی کی جا رہی ہے۔
کمشنر مظفرآباد امتیاز چوہدری کے مطابق سکیورٹی رسک کی بنیاد پر انہیں آگے جانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
مارچ کے شرکا نے سابق چیئرمین جے کے ایل ایف امان اللہ خان اور موجودہ چیئرمین یسین ملک کی تصاویر بھی تھامی ہوئی ہیں اور پلے کارڈز پر نعرے بھی درج ہیں۔
واضح رہے کہ مارچ میں لگ بھگ پانچ ہزار افراد موجود ہیں جن کو روکنے کے لیے پندرہ سو پولیس اہلکار تعینات ہیں۔
/129
8 اکتوبر 2019 - 05:00
News ID: 981058
جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ کے آزادی نے آج لائن آف کنٹرول جانے کا اعلان کر دیا ہے جبکہ کمشنر مظفر آباد کا کہنا ہے کہ سکیورٹی رسک کی بنیاد پر انہیں آگے جانے نہیں دیا جا سکتا۔